تقریباً ہر پاکستانی گھر میں کوئی نہ کوئی شوگر کا مریض ہوتا ہے، مگر اس بیماری کے بارے میں سنی سنائی باتیں زیادہ ہیں۔ یہاں آسان الفاظ میں جانیں کہ شوگر کیا ہے، کس کو خطرہ زیادہ ہے، کیا کھائیں، اور کب فوراً ڈاکٹر یا ہسپتال جانا ضروری ہے۔
شوگر کی بیماری اصل میں کیا ہے؟
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق شوگر (ذیابیطس) ایک لمبی بیماری ہے جس میں لبلبہ کافی انسولین نہیں بناتا، یا جسم انسولین کو ٹھیک سے استعمال نہیں کر پاتا۔ خون میں شکر لمبے عرصے تک زیادہ رہے تو اعصاب اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
- ٹائپ 1 شوگر: انسولین بنتی ہی کم ہے، اس لیے روزانہ انسولین لینی پڑتی ہے۔ WHO کے مطابق اس سے بچاؤ کا کوئی طریقہ ابھی معلوم نہیں۔
- ٹائپ 2 شوگر: جسم انسولین کو ٹھیک سے استعمال نہیں کرتا۔ WHO کے مطابق 95 فیصد سے زیادہ مریضوں کو یہی قسم ہوتی ہے، اور اکثر اس سے بچا جا سکتا ہے۔
- پری ڈائبیٹیز: شکر نارمل سے زیادہ ہے مگر شوگر کی حد تک نہیں۔ WHO کے مطابق ایسے لوگوں کو ٹائپ 2 کا خطرہ زیادہ ہے، لیکن بیماری ہونا لازمی نہیں۔
یہ مضمون زیادہ تر ٹائپ 2 کے بارے میں ہے۔
پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی لوگوں کو خطرہ زیادہ کیوں ہے؟
Diabetes UK کے مطابق جنوبی ایشیائی لوگوں میں ٹائپ 2 شوگر دو سے چار گنا زیادہ ہوتی ہے، اور ان میں خطرہ 25 سال کی عمر سے بڑھا ہوا سمجھا جاتا ہے، جبکہ گورے لوگوں میں 40 سال کے بعد۔ دوسری باتیں:
- ماں باپ، بہن بھائی یا اولاد کو شوگر ہو تو خطرہ 2 سے 6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
- وزن زیادہ ہو، یا کمر کا گھیرا زیادہ ہو۔
- کبھی ہائی بلڈ پریشر رہا ہو۔
- حمل میں شوگر ہوئی ہو۔ ایسی خواتین پیدائش کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کروائیں۔
- جسمانی حرکت کم ہو۔
NHS کے مطابق جنوبی ایشیائی لوگوں کو تھوڑے کم BMI پر ہی صحت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے BMI 23 سے ہی زیادہ وزن شمار ہوتا ہے۔ NHS کمر کا گھیرا قد کے آدھے سے کم رکھنے کا کہتا ہے۔ یعنی دبلا دکھنے والا شخص بھی، اگر پیٹ پر چربی ہو، محتاط رہے۔
علامات کیا ہیں، اور ٹیسٹ کب کروائیں؟
WHO کے مطابق شوگر کی عام علامات یہ ہیں:
- بار بار پیاس لگنا
- بار بار پیشاب آنا
- نظر دھندلی ہونا
- بہت زیادہ تھکن
- بغیر کوشش کے وزن کم ہونا
مگر WHO کے مطابق ٹائپ 2 کی علامات اکثر ہلکی ہوتی ہیں اور کئی سال تک پتا نہیں چلتا، بعض اوقات پیچیدگی شروع ہونے تک۔ کوئی تکلیف نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ شوگر نہیں۔
ٹیسٹ: شوگر خون کے ٹیسٹ سے پکڑی جاتی ہے۔ WHO کے مطابق یہ ٹیسٹ نسبتاً سستا ہے اور باقاعدہ چیک اپ جلدی تشخیص کا بہترین طریقہ ہے۔ ایک ٹیسٹ HbA1c اوسط شکر بتاتا ہے۔ رپورٹ کا مطلب ڈاکٹر سے سمجھیں۔ عمر 25 سے اوپر ہو، خاندان میں شوگر ہو یا کوئی علامت ہو تو ٹیسٹ کی بات ضرور کریں۔
شوگر میں کیا کھائیں اور کیا کم کریں؟
NHS کے مطابق پھل، سبزیاں، سالم اناج جیسے آٹے کی روٹی اور جو (اوٹس)، اور چنے اور مسور جیسی دالیں کھائیں۔ چینی اور نمک والی پیکٹ کی چیزیں، مٹھائی اور بسکٹ کم کریں۔ تبدیلی آہستہ لائیں، جیسے ہر ہفتے ایک چھوٹی تبدیلی۔
پلیٹ کا توازن
روٹی چاول چھوڑنا ضروری نہیں۔ پلیٹ میں پہلے سبزی اور سلاد، ساتھ دال، اور روٹی چاول ضرورت کے مطابق رکھیں۔ تفصیل اس ویڈیو کے صفحے پر ہے۔
ریشہ (فائبر) گھر کی چیزوں سے
NHS جن چیزوں کا مشورہ دیتا ہے، یعنی سالم آٹا، چنے اور دالیں، وہ ہمارے باورچی خانے میں پہلے سے موجود ہیں۔
دال، چنے اور لوبیا پروٹین کا سستا ذریعہ بھی ہیں۔
چائے کی چینی بھی گنتی میں آتی ہے
چار کپ چائے، ہر کپ میں دو چمچ، حساب جلدی بڑھتا ہے۔ ہر ہفتے تھوڑی چینی کم کریں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق شہد اور شربت بھی آزاد شکر میں شمار ہوتے ہیں، اور گڑ بھی چینی ہی کی ایک شکل ہے۔ سویٹنر کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں۔
پھل کھائیں، جوس نہیں
NHS پھل کھانے کا مشورہ دیتا ہے، مگر شکر بہت گر جائے (ہائپو) تو جوس کا چھوٹا گلاس اسی لیے دیتا ہے کہ وہ شکر جلدی بڑھاتا ہے۔ اس لیے روزمرہ میں پورا پھل اور پیاس کے لیے پانی بہتر ہے۔
شادی، عید اور مٹھائی
تقریبات میں مٹھائی کا چھوٹا ٹکڑا لیں، کھانے کے بعد تھوڑا چلیں، اور بوتل کی جگہ پانی رکھیں۔ NHS کے مطابق ماہر سے پوچھے بغیر بہت سخت یا کم کیلوری ڈائٹ شروع نہ کریں، خاص طور پر اگر انسولین یا شوگر کی دوا لیتے ہیں۔
ورزش اور وزن سے کیا فرق پڑتا ہے؟
NHS ہفتے بھر میں کم از کم ڈھائی گھنٹے درمیانی شدت کی سرگرمی کا مشورہ دیتا ہے، جیسے تیز قدموں سے چلنا، جس میں سانس معمول سے تیز ہو مگر بات کرنا ممکن رہے۔ مقدار آہستہ آہستہ اور ڈاکٹر کے مشورے سے بڑھائیں۔ WHO کے مطابق متحرک لوگوں میں ٹائپ 2 شوگر کا خطرہ کم ہوتا ہے، بیٹھنے کا وقت کم کرنا چاہیے، اور تھوڑی حرکت بھی کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے۔
WHO کے مطابق پٹھے مضبوط کرنے والی ورزش سب کے لیے فائدہ مند ہے۔ دل کی بیماری یا پاؤں میں زخم ہو تو پہلے ڈاکٹر سے پوچھیں۔
وزن: NHS کے مطابق وزن زیادہ ہو تو کم کرنے کی کوشش کریں۔ طرز زندگی بدلنے سے بعض لوگوں کی شکر نارمل سطح پر آ جاتی ہے، جسے ریمیشن کہتے ہیں۔ سگریٹ بھی چھوڑیں۔
دوائیں اور انسولین: کیا جاننا ضروری ہے؟
NHS کے مطابق ٹائپ 2 کا علاج عموماً گولیوں سے شروع ہوتا ہے، اور ضرورت ہو تو دوسری دوائیں یا انسولین شامل کی جاتی ہیں۔ WHO کے مطابق اکثر بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی دوا بھی دی جاتی ہے تاکہ پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو۔
آج کل GLP-1 دواؤں کا بہت ذکر ہے۔ NHS کے مطابق یہ عموماً ہفتے میں ایک بار کا انجیکشن ہیں اور خاص حالات میں دی جاتی ہیں، جیسے دل کی بیماری کی ہسٹری، یا موٹاپا ہو اور باقی علاج کافی نہ ہو۔ یہ فیصلہ ڈاکٹر کا ہے، خود سے شروع نہ کریں۔
سب سے اہم اصول: NHS کے مطابق ڈاکٹر کے کہے بغیر کوئی دوا بند یا تبدیل نہ کریں۔
پاؤں، آنکھوں اور گردوں کی حفاظت کیسے کریں؟
WHO کے مطابق اعصاب کا نقصان اور خون کی کم روانی پاؤں میں زخم بنا سکتے ہیں، جو پاؤں کٹنے تک پہنچ سکتے ہیں۔ MedlinePlus کے مطابق:
- روزانہ پاؤں دیکھیں، تلوے، ایڑی اور انگلیوں کے بیچ سمیت۔ خود نظر نہ آئے تو گھر کا کوئی فرد دیکھے۔
- ننگے پاؤں نہ چلیں، خاص طور پر گرم فرش پر۔ جوتا پہننے سے پہلے اندر دیکھ لیں۔
- نیم گرم پانی سے دھوئیں اور انگلیوں کے بیچ خشک کریں۔
- ناخن سیدھے کاٹیں، اور گٹے خود بلیڈ سے نہ کاٹیں۔
- گرم پانی کی بوتل پاؤں پر نہ رکھیں، جلنے کا پتا نہیں چلتا۔
لالی، گرمی، سوجن، زخم یا دراڑ ہو تو خود علاج نہ کریں، جلد ڈاکٹر کو دکھائیں۔
آنکھیں اور گردے: WHO کے مطابق شوگر سے نظر ہمیشہ کے لیے جا سکتی ہے اور گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ NHS میں آنکھوں کا معائنہ ہر ایک یا دو سال، گردوں کا ٹیسٹ سال میں کم از کم ایک بار، اور HbA1c ہر تین سے چھ ماہ بعد ہوتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے اپنا شیڈول پوچھیں۔
شوگر کے بارے میں عام غلط فہمیاں
- "کریلا، میتھی یا دیسی نسخہ دوا کی جگہ لے سکتا ہے": سبزیاں اچھی ہیں، مگر NHS کے مطابق ڈاکٹر کے کہے بغیر دوا بند نہ کریں۔ کوئی نسخہ لے رہے ہوں تو ڈاکٹر کو بتائیں۔
- "شوگر صرف میٹھا کھانے سے ہوتی ہے": WHO اور Diabetes UK کے مطابق وزن، کم حرکت، عمر، خاندان اور نسل بھی اہم وجوہات ہیں۔
- "دبلے لوگوں کو شوگر نہیں ہوتی": جنوبی ایشیائی لوگوں کو کم BMI پر بھی خطرہ ہوتا ہے، اور کمر کا زیادہ گھیرا بھی خطرہ بڑھاتا ہے۔
- "انسولین آخری مرحلہ ہے": WHO کے مطابق ٹائپ 2 کے کچھ مریضوں کو انسولین چاہیے ہوتی ہے۔ یہ شکر قابو کرنے کا علاج ہے، سزا یا ناکامی نہیں۔
خطرے کی علامات: کب فوراً مدد لیں؟
شوگر بہت کم ہو جائے (ہائپو)
NHS کے مطابق انسولین اور کچھ گولیاں شکر کو زیادہ گرا سکتی ہیں، خاص طور پر کھانا چھوڑنے یا دیر سے کھانے پر۔ علامات: بھوک، چکر، گھبراہٹ، پسینہ، کپکپی، ہونٹوں میں سنسناہٹ، تیز دھڑکن، کمزوری، دھندلی نظر یا الجھن۔ مریض ہوش میں ہو تو:
- فوراً جوس کا چھوٹا گلاس، میٹھا مشروب یا گلوکوز کی گولیاں دیں۔
- 10 سے 15 منٹ بعد شکر چیک کریں۔
- اب بھی کم ہو تو دوبارہ دیں اور 10 منٹ بعد پھر چیک کریں۔
- بہتر ہونے پر بسکٹ، سینڈوچ یا اگلا کھانا دیں۔
مریض بے ہوش ہو یا دورہ پڑ رہا ہو تو منہ میں کچھ نہ ڈالیں، کروٹ کے بل لٹائیں اور ساتھ رہیں۔ گلوکاگون انجیکشن ہو اور لگانا آتا ہو تو لگائیں۔ گلوکاگون نہ ہو، یا لگانے کے دس منٹ بعد بھی ہوش نہ آئے، تو فوراً ایمبولینس بلائیں۔
فوراً ہسپتال جائیں اگر
- مریض بے ہوش ہو یا دورہ (جھٹکے) پڑے۔
- ہوش میں مریض کی شکر بار بار علاج کے باوجود کم رہے یا حالت بہتر نہ ہو۔
- NHS کے مطابق بہت زیادہ پیشاب، شدید پیاس، متلی، الجھن، بہت غنودگی یا سانس پھولنا ہو۔ یہ جان لیوا حالت ہو سکتی ہے۔ خود گاڑی نہ چلائیں اور دوائیں ساتھ لے جائیں۔
جلد ڈاکٹر کو دکھائیں اگر
- شوگر کی دوا لیتے ہوئے الٹیاں، دست یا تیز بخار ہو۔ NHS کے مطابق ڈاکٹر بتائیں گے کہ دوا روکنی ہے یا نہیں۔
- پاؤں میں چھالا، دراڑ، زخم، لالی، سوجن یا گرمی ہو۔
- نظر پہلے سے کمزور ہو رہی ہو۔
- پاؤں یا ہاتھ میں سنسناہٹ، سن پن یا درد ہو۔
- شوگر کی علامات ہوں، یا خطرہ زیادہ ہو اور کبھی ٹیسٹ نہ کروایا ہو۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا شوگر ٹھیک ہو سکتی ہے؟
NHS کے مطابق بعض لوگوں میں ریمیشن ممکن ہے۔ پھر بھی چیک اپ جاری رکھیں اور دوا خود نہ چھوڑیں۔
کیا شوگر کے مریض چاول اور روٹی کھا سکتے ہیں؟
جی ہاں، ضرورت کے مطابق، ساتھ سبزی اور دال کے۔ NHS سالم اناج کا مشورہ دیتا ہے۔
کیا بچوں کو بھی ٹائپ 2 شوگر ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ WHO کے مطابق یہ اب بچوں میں بھی زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ علامات ہوں تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔
میرا ٹیسٹ نارمل تھا، کیا دوبارہ کروانا ہوگا؟
خطرہ زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے پوچھیں کہ اگلا ٹیسٹ کب ہو۔ WHO کے مطابق باقاعدہ چیک اپ ہی جلدی تشخیص کا بہترین طریقہ ہے۔
یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے، ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ ہنگامی صورت میں فوراً قریبی ہسپتال جائیں۔








