چوٹ سے بچے کا دانت نکل جائے تو؟
بچے کا دانت چوٹ سے نکل جائے تو پکا دانت واپس کیسے لگائیں، دودھ میں کیسے رکھیں، دودھ کے دانت کا کیا کریں، خون کیسے روکیں اور کب فوراً ہسپتال جائیں۔
یہ عام معلومات ہیں، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔
تحریری رہنما
کھیلتے ہوئے گرنا یا گیند لگنا بچوں میں عام بات ہے، اور کبھی کبھی اس سے سامنے کا دانت پورا باہر نکل آتا ہے۔ پہلے چند منٹ میں صحیح قدم اٹھانے سے پکا دانت اکثر بچایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ دانت دودھ کا ہے یا پکا، کیونکہ دونوں کا طریقہ الگ ہے۔
وقت کیوں اتنا اہم ہے
دانت کی جڑ پر باریک زندہ خلیے ہوتے ہیں جو دانت کو دوبارہ جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہوا میں پڑی جڑ چند منٹ میں سوکھنے لگتی ہے، اور تقریباً آدھا گھنٹہ سوکھا رہنے پر زیادہ تر خلیے ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے دانت کو فوراً اپنی جگہ لگائیں یا دودھ میں رکھیں۔
دودھ کا دانت ہے یا پکا؟
عام طور پر بچوں کے دودھ کے دانت تقریباً چھ سال کی عمر سے گرنا شروع ہوتے ہیں اور آخری دودھ کا دانت اکثر بارہ سال کے آس پاس گرتا ہے۔ چھ سے بارہ سال کے بچے کے منہ میں دونوں طرح کے دانت ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں تو دانت واپس لگانے کی کوشش نہ کریں، اسے دودھ میں رکھیں اور فوراً ڈینٹسٹ کے پاس جائیں۔
پکا دانت نکل جائے تو کیا کریں
- دانت کو صرف اوپر والے سفید حصے سے پکڑیں جسے کراؤن کہتے ہیں۔ جڑ کو بالکل ہاتھ نہ لگائیں۔
- اگر دانت پر مٹی لگی ہو تو اسے دودھ، نمکین محلول (سلائن) یا بچے کے اپنے تھوک میں ہلکے سے دھوئیں۔ دانت کو رگڑیں یا کھرچیں نہیں۔
- اگر بچہ پوری طرح ہوش میں ہے اور تعاون کر رہا ہے تو دانت کو اسی رخ میں جیسے پہلے تھا، آہستہ سے اس کی خالی جگہ پر واپس رکھیں۔ زبردستی نہ کریں۔ دانت آسانی سے نہ بیٹھے یا بچہ ساتھ نہ دے تو اسے دودھ میں رکھیں اور فوراً ڈینٹسٹ کے پاس جائیں۔
- اگر دانت آسانی سے بیٹھ جائے تو بچے سے کہیں کہ صاف رومال یا کپڑا ہلکے سے دانتوں میں دبا کر رکھے تاکہ دانت اپنی جگہ ٹکا رہے۔
- اگر دانت واپس نہ لگ سکے تو اسے فوراً دودھ میں ڈال دیں۔ دودھ نہ ہو تو کسی صاف کپ میں تھوک جمع کر کے دانت اس میں رکھیں۔
- دانت ساتھ لے کر بغیر دیر کیے ڈینٹسٹ کے پاس جائیں اور بتائیں کہ دانت کتنی دیر باہر رہا۔
دودھ کا دانت نکل جائے تو
دودھ کا دانت واپس نہ لگائیں۔ NHS کے مطابق ایسا کرنے سے نیچے بنتے ہوئے پکے دانت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خون روکیں اور ڈینٹسٹ کو جلد دکھائیں۔
خون کیسے روکیں
اگر دانت واپس لگا دیا ہے تو صاف کپڑے پر ہلکے سے دانت بند کروائیں تاکہ دانت اپنی جگہ رہے، زور سے نہیں۔ اگر جگہ خالی ہے اور خون آ رہا ہے تو صاف جالی (گاز) یا صاف کپڑا لپیٹ کر خالی جگہ پر رکھیں اور بچے سے کہیں کہ اسے پندرہ منٹ تک مسلسل دانتوں میں دبائے رکھے۔ اس دوران بچے کو بار بار کلی نہ کروائیں، اس سے جما ہوا خون ہٹ سکتا ہے۔ اگلے بارہ گھنٹے گرم مشروبات نہ دیں۔ اگر اس طرح خون نہ رکے تو ہسپتال جائیں۔
کب فوراً ایمرجنسی جائیں
منہ کی چوٹ کے ساتھ سر پر بھی چوٹ لگ سکتی ہے۔ ان میں سے کوئی علامت ہو تو فوراً ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں:
- بچہ بے ہوش ہوا ہو، یا اتنی غنودگی ہو کہ آنکھیں کھلی نہ رکھ سکے
- دورہ (جھٹکے) پڑے
- کان یا ناک سے صاف پانی نکلے، یا کان سے خون آئے
- دیکھنے یا سننے میں مسئلہ ہو
- چلنے، توازن، بولنے یا سمجھنے میں مشکل ہو
- رویہ بدل جائے، جیسے غیر معمولی چڑچڑا پن یا کھویا کھویا رہنا
- ایک میٹر یا پانچ سیڑھیوں سے زیادہ اونچائی سے گرا ہو
- ایک سال سے کم عمر بچے کے سر پر گومڑ، سوجن یا بڑا زخم ہو
کھیل میں ماؤتھ گارڈ
ٹکر والے کھیلوں، جیسے باکسنگ یا رگبی، میں بچے کو ماؤتھ گارڈ پہنائیں۔ یہ دانتوں اور مسوڑھوں کو ڈھکنے والا حفاظتی خول ہے۔ سب سے اچھا وہ ہے جو ڈینٹسٹ بچے کے ناپ سے بنائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا دانت کو نلکے کے پانی میں رکھ سکتے ہیں؟
دودھ، سلائن یا تھوک بہتر ہیں۔ پانی دانت رکھنے کے لیے اچھا نہیں، البتہ دانت کو سوکھا چھوڑنے سے پھر بھی بہتر ہے۔
اگر دانت مل ہی نہ سکے تو؟
بچے کا منہ اندر سے دیکھیں۔ اگر بچے کو کھانسی، دم گھٹنے، سانس میں سیٹی جیسی آواز یا سانس لینے میں مشکل ہو تو ہو سکتا ہے دانت سانس کی نالی میں چلا گیا ہو، فوراً ہسپتال جائیں۔ ایسی کوئی علامت نہ ہو تب بھی فوراً ڈینٹسٹ سے ملیں۔
دانت واپس لگنے کے بعد کیا احتیاط کریں؟
ڈینٹسٹ عموماً دانت کو ساتھ والے دانتوں سے جوڑ دیتا ہے۔ تقریباً دو ہفتے نرم غذا دیں، ہر کھانے کے بعد نرم برش سے دانت صاف کروائیں اور ٹکر والے کھیلوں سے بچائیں۔
یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے۔ علاج، دوا یا خوراک میں تبدیلی کے لیے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔







