بخار میں بچے کو ٹھنڈے پانی سے نہ نہلائیں
بچے کو بخار ہو تو گھر میں کیا کریں اور کیا نہ کریں، کتنا پانی پلائیں، دوا کب دیں اور کن خطرناک علامات پر فوراً ہسپتال جانا ضروری ہے، سب آسان الفاظ میں۔
یہ عام معلومات ہیں، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔
تحریری رہنما
بچے کو بخار ہو تو ہر کوئی اپنا نسخہ بتاتا ہے، کوئی ٹھنڈے پانی کی پٹیاں، کوئی موٹی رضائی۔ بخار عام طور پر جسم کا انفیکشن سے لڑنے کا طریقہ ہے اور اکثر ایک سے چار دن میں خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اصل کام بخار کا نمبر نیچے لانا نہیں بلکہ بچے کو آرام دینا، پانی کی کمی سے بچانا اور خطرے کی علامات پہچاننا ہے۔
بخار کسے کہتے ہیں
بچوں میں 38 ڈگری سیلسیئس (تقریباً 100.4 فارن ہائیٹ) یا اس سے زیادہ درجہ حرارت کو تیز بخار مانا جاتا ہے۔
گھر میں کیا کریں
- بچے کو ہلکے، عام کپڑے پہنائیں۔ نہ زیادہ کپڑے اور کمبل لپیٹیں، نہ بالکل کپڑے اتار دیں۔
- بار بار پانی یا دوسرے مشروبات پلاتے رہیں۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے کو دودھ پلاتی رہیں، یہی اس کے لیے سب سے اچھا مشروب ہے۔
- بچہ کھانا چاہے تو دیں۔ اسے گھر پر آرام کرنے دیں اور رات کو بھی دیکھتے رہیں۔
- اگر بچہ بہت بے چین یا تکلیف میں ہو تو بخار کی دوا دی جا سکتی ہے، لیکن صرف ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے مشورے سے اور ڈبے پر لکھی ہدایت کے مطابق۔
ٹھنڈا یا نیم گرم پانی، دونوں نہیں
ٹھنڈے پانی سے نہلانا تو غلط ہے ہی، لیکن NHS اور برطانیہ کی طبی رہنما ہدایات (NICE) کے مطابق بخار اتارنے کے لیے نیم گرم پانی سے جسم پونچھنا بھی تجویز نہیں کیا جاتا۔ بخار انفیکشن کے خلاف جسم کا عام ردعمل ہے۔ اس کی جگہ ہلکے کپڑے، پانی اور آرام پر توجہ دیں۔
دوا کے بارے میں ضروری باتیں
- 16 سال سے کم عمر بچے کو اسپرین ہرگز نہ دیں۔
- دو مہینے سے چھوٹے بچے کو پیراسیٹامول اور تین مہینے سے چھوٹے یا پانچ کلو سے کم وزن والے بچے کو آئبوپروفین نہ دیں۔
- جس بچے میں پانی کی کمی ہو، چکن پاکس ہو یا دمہ ہو، اسے آئبوپروفین ڈاکٹر کے کہے بغیر نہ دیں۔
- بخار کی دوا جھٹکوں (دورے) کو نہیں روکتی، اس لیے صرف نمبر کم کرنے کے لیے دوا نہ دیں۔
ڈینگی کا خیال
جہاں ڈینگی پھیلا ہو، وہاں تیز بخار کے ساتھ شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد یا جوڑوں میں درد ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ڈینگی میں آئبوپروفین اور اسپرین جیسی دوائیں نہیں لینی چاہییں کیونکہ ان سے خون بہنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ڈینگی میں خطرناک علامات اکثر بخار اترنے کے بعد آتی ہیں: پیٹ میں شدید درد، بار بار الٹی، تیز سانس، مسوڑھوں یا ناک سے خون، جلد کا پھیکا پڑ جانا اور ٹھنڈا ہونا۔ ایسی کوئی علامت ہو تو فوراً ہسپتال جائیں۔
پانی کی کمی کی نشانیاں
- پیمپر معمول سے بہت کم گیلا ہونا
- منہ خشک، آنکھیں اندر دھنسی ہوئی
- روتے وقت آنسو نہ آنا
- چھوٹے بچے کا تالو اندر دبا ہوا ہونا
فوراً ہسپتال کی ایمرجنسی کب جائیں
- تین مہینے سے چھوٹے بچے کا درجہ حرارت 38 ڈگری یا زیادہ ہو
- ایسے دانے جو گلاس سے دبانے پر بھی ختم نہ ہوں
- پہلی بار جھٹکے یا دورہ پڑے
- سانس لینے میں مشکل یا بہت تیز سانس
- بچہ بہت غنودگی میں ہو، مشکل سے جاگے یا جواب نہ دے
- گردن اکڑی ہو یا روشنی سے تکلیف ہو
- جلد یا ہونٹ نیلے، سرمئی، دھبے دار یا غیر معمولی طور پر پھیکے ہوں، ہاتھ پاؤں غیر معمولی ٹھنڈے ہوں
- بچہ بہت بے چین ہو، رونا بند نہ کرے یا الجھا ہوا لگے
اسی دن ڈاکٹر کو کب دکھائیں
- تین سے چھ مہینے کے بچے کا درجہ حرارت 39 یا زیادہ ہو
- بخار پانچ دن یا زیادہ رہے
- بخار کے ساتھ دانے ہوں، پانی کی کمی ہو، یا بچہ کچھ نہ کھائے اور معمول جیسا نہ لگے
- آپ کا دل مطمئن نہ ہو، تب بھی مشورہ لینا درست ہے
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا کمبل میں لپیٹ کر پسینہ نکالنا چاہیے؟
نہیں۔ ہلکے عام کپڑے کافی ہیں۔
کیا نیم گرم پانی کی پٹیاں رکھنا ٹھیک ہے؟
NHS اور NICE بخار اتارنے کے لیے جسم پونچھنے کا مشورہ نہیں دیتے۔ ہلکے کپڑے اور باقاعدہ پانی بہتر ہیں۔
بخار کتنے دن رہے تو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے؟
پانچ دن یا زیادہ رہے تو ضرور۔ خطرناک علامت ہو تو انتظار نہ کریں۔
یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے۔ علاج، دوا یا خوراک میں تبدیلی کے لیے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔







