کھانا اور غذائیت

چائے میں چینی، گنتی میں نہیں آتی

· 0:44

چائے میں ڈالی گئی چینی بھی کیوں گنی جاتی ہے، عالمی ادارہ صحت کی حد کیا ہے، اور گھر میں آہستہ آہستہ میٹھا کم کرنے کے آسان طریقے جانیں۔

مکمل تحریری رہنما پڑھیں

یہ عام معلومات ہیں، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔

تحریری رہنما

ہمارے گھروں میں دن کی شروعات بھی چائے سے ہوتی ہے اور مہمان کی خاطر بھی۔ مٹھائی اور بوتل کو تو ہم میٹھا مانتے ہیں، مگر ہر کپ میں ڈالے گئے چمچ کا حساب کوئی نہیں رکھتا۔ یہی چھوٹے چمچ دن بھر میں مل کر اچھی خاصی چینی بن جاتے ہیں۔

فری شوگر کیا ہوتی ہے؟

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق فری شوگر وہ چینی ہے جو کھانے یا مشروب میں کمپنی، پکانے والا یا کھانے والا خود ڈالتا ہے۔ یعنی چائے میں آپ نے اپنے ہاتھ سے جو چینی ڈالی، وہ بھی اسی میں گنی جاتی ہے۔

شہد، شربت اور پھلوں کے جوس کا میٹھا بھی فری شوگر ہے۔ لیکن دودھ، پورے پھل اور سبزیوں کا قدرتی میٹھا فری شوگر نہیں، جب تک پھل کا جوس نہ بنا لیا جائے۔

زیادہ چینی سے وزن بڑھ سکتا ہے اور دانت خراب ہو سکتے ہیں۔

WHO کیا کہتا ہے؟

WHO کا مشورہ ہے کہ فری شوگر دن بھر کی کل کیلوریز کے 10 فیصد سے کم رہے۔ صحت مند وزن والے بالغ کے لیے، جو دن میں تقریباً 2000 کیلوریز کھاتا ہے، یہ تقریباً 50 گرام، یعنی لگ بھگ 12 لیول چائے کے چمچ بنتی ہے۔ اسے 5 فیصد یا اس سے کم، یعنی تقریباً آدھا کر دیا جائے تو مزید فائدہ ہو سکتا ہے۔

یہ حد پورے دن کی ہے: چائے، بسکٹ، رس، مٹھائی، جوس اور بوتل سب ملا کر۔

کپ گنیں تو حساب بنتا ہے

اگر کوئی دن میں چار کپ چائے پیتا ہے اور ہر کپ میں دو لیول چمچ چینی ڈالتا ہے تو یہ آٹھ چمچ ہو گئے، یعنی WHO کی 12 چمچ والی حد کا دو تہائی۔ اور ابھی چائے کے ساتھ کا بسکٹ یا شام کا میٹھا گنا ہی نہیں گیا۔

گھر میں چینی کیسے کم کریں

  1. آہستہ آہستہ کم کریں: NHS کا مشورہ ہے کہ چائے میں چینی دھیرے دھیرے کم کرتے جائیں، یہاں تک کہ چھوڑ سکیں۔ دو چمچ سے ڈیڑھ، پھر ایک۔ جب نیا ذائقہ عادت بن جائے تب اگلا قدم لیں۔
  2. چینی دانی میز سے ہٹا دیں: جو چیز سامنے ہو، ہاتھ بار بار اسی طرف جاتا ہے۔ چینی کچن میں رکھیں۔
  3. گڑ اور شہد کو "بہتر چینی" نہ سمجھیں: WHO کے مطابق شہد بھی فری شوگر ہے، اور گڑ بھی وہ میٹھا ہے جو ہم خود ڈالتے ہیں۔ چینی کی جگہ انہیں ڈالنے سے حساب نہیں بدلتا۔
  4. ساتھ کی چیزوں پر نظر رکھیں: بسکٹ میں بھی چینی ہوتی ہے۔ NHS کہتا ہے کہ ایک وقت میں دو بسکٹ کی جگہ ایک کھائیں۔ میٹھے رس کا بھی یہی حساب ہے۔
  5. ذائقہ بدل کر دیکھیں: NHS کے مطابق ادرک یا لیموں کے ساتھ گرم پانی یا ہربل چائے بھی آزمائی جا سکتی ہے۔
  6. میٹھی گولیوں پر انحصار نہ کریں: WHO کہتا ہے کہ فری شوگر مصنوعی میٹھے (سویٹنر) کے بغیر کم کی جائے۔ بہتر ہے کہ زبان کو ہی کم میٹھے کی عادت ڈالیں۔

ڈاکٹر سے کب بات کریں

  • اگر آپ کو شوگر (ذیابیطس) ہے تو اپنی چائے اور کھانے کی عادت پر ڈاکٹر یا ذیابیطس نرس سے بات کریں، خاص طور پر اگر خوراک بدلنا مشکل لگ رہا ہو۔
  • یہ علامات ہوں تو ڈاکٹر کو دکھائیں: بہت تھکن، معمول سے زیادہ پیشاب، ہر وقت پیاس، بغیر کوشش وزن کم ہونا، دھندلا نظر آنا، یا زخم دیر سے بھرنا۔
  • اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یا آپ کے بچے کو شوگر کا خطرہ زیادہ ہے، تب بھی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا بالکل پھیکی چائے پینا ضروری ہے؟

پہلے دن ہی چھوڑنا ضروری نہیں۔ NHS آہستہ آہستہ کم کرنے کا مشورہ دیتا ہے، اور جتنی کم فری شوگر ہو، اتنا بہتر۔

کیا دودھ پتی کے دودھ کا میٹھا بھی گننا ہے؟

نہیں، دودھ کا قدرتی میٹھا فری شوگر نہیں۔ حساب اوپر سے ڈالی گئی چینی کا ہے۔

کیا بچوں کو میٹھی چائے دینا ٹھیک ہے؟

WHO کے مطابق شیر خوار اور چھوٹے بچوں کو میٹھے مشروبات سے بچانا چاہیے۔ NHS کے مطابق بچوں کی روزانہ چینی کی حد بڑوں سے بھی کم ہے۔

یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے۔ علاج، دوا یا خوراک میں تبدیلی کے لیے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔