دوسری رائے لینا بےاعتمادی نہیں
Doosri raye lena be-aitmadi nahin
Tashkhees ya ilaaj ke baare mein uljhan ho to doosri raye (second opinion) li ja sakti hai. Yeh doctor par be-aitmadi nahin.
تشخیص یا علاج کے بارے میں الجھن ہو تو دوسری رائے لی جا سکتی ہے۔ اسے ڈاکٹر پر بےاعتمادی سمجھنے کی ضرورت نہیں۔
- پہلا قدم موجودہ ڈاکٹر سے بات کرنا ہے؛ ان سے کہیں کہ تشخیص دوبارہ سمجھا دیں۔
- پھر بھی اطمینان نہ ہو تو دوسری رائے لے سکتے ہیں۔
- جاتے وقت اپنی رپورٹیں اور نسخے ساتھ لے جائیں، اور پہلے ڈاکٹر کی رائے بھی بتائیں۔
دوسری رائے کے انتظار میں فوری ضروری علاج نہ ٹالیں۔
یہ عام معلومات ہیں، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔







