چھوٹے بچوں کی بہت سی سنگین چوٹیں گھر کے اندر لگتی ہیں: باورچی خانے میں، غسل خانے میں، سیڑھیوں پر اور دسترخوان کے پاس۔ بچہ ہر چیز چھوتا، کھینچتا اور منہ میں ڈالتا ہے، اور اسے خطرے کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بہت سے حادثات چند سادہ عادتوں سے روکے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی گھروں میں بچوں کے حادثات کیوں زیادہ ہوتے ہیں؟

ہمارے گھروں میں نیچی جگہ پر رکھی گرم چائے، کھلے چولہے، بغیر جنگلے کی چھتیں اور نیچے رکھی دوائیں عام ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں میں بچوں کی جلنے سے اموات امیر ملکوں کے مقابلے میں سات گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ اسی ادارے کے مطابق پاکستان سمیت چند ملکوں میں جلنے والے بچوں میں سے 18 فیصد کو مستقل معذوری ہو جاتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بڑوں کی ناکافی نگرانی ایک بڑی وجہ ہے، اور چھوٹی بچیوں کو کھانا پکانے یا چھوٹے بہن بھائی سنبھالنے پر لگانا بھی خطرہ بڑھاتا ہے۔ گھر کی حفاظت پورے گھر کی ذمہ داری ہے۔

گرم چائے، دیگچی اور کیتلی سے جلنے سے کیسے بچائیں؟

چائے ہمارے گھروں کا سب سے عام اور سب سے نظر انداز خطرہ ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق گرم مشروب بننے کے پندرہ منٹ بعد تک بھی بچے کو جھلسا سکتا ہے۔

  • بچے کو گود میں اٹھانے سے پہلے اپنا کپ دور اور اونچی جگہ رکھ دیں۔
  • چائے کی ٹرے یا کپ دسترخوان، نیچی میز یا فرش پر بچے کی پہنچ میں نہ چھوڑیں۔
دسترخوان پر گرم چائے، بچے کی پہنچ میں0:45ویڈیو کا صفحہ

باورچی خانے میں بھی چند عادتیں کافی ہیں:

  • پیچھے والے چولہے پہلے استعمال کریں اور دیگچی کا دستہ اندر کی طرف موڑ دیں۔
  • بغیر تار والی کیتلی یا چھوٹی تار والی کیتلی استعمال کریں تاکہ بچہ تار کھینچ نہ سکے۔
  • استری اور بال سیدھے کرنے والی مشین ٹھنڈی ہونے تک بچے کی پہنچ سے دور رکھیں۔
  • عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چولہا مضبوط اور ہلنے والا نہ ہو، اور بچہ اس تک نہ پہنچ سکے۔ کھلی آگ یا مٹی کے تیل کے چولہے کے پاس ڈھیلے کپڑے آسانی سے آگ پکڑتے ہیں۔
دیگچی کا دستہ باہر کی طرف نہ رکھیں0:43ویڈیو کا صفحہ اور تحریری رہنما

گرنے اور ڈوبنے سے کیسے بچائیں؟

کھڑکی، چھت، بالکونی اور سیڑھیاں

بچہ جیسے ہی رینگنا اور چیزوں پر چڑھنا شروع کرتا ہے، گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ این ایچ ایس کی ہدایات یہ ہیں:

  • کھڑکی میں ایسا تالا یا اسٹاپر لگوائیں کہ وہ ساڑھے چھ سینٹی میٹر سے زیادہ نہ کھلے، اور بڑوں کو معلوم ہو کہ آگ لگنے کی صورت میں چابی کہاں ہے۔
  • بیڈ، صوفہ اور کرسی کھڑکی کے پاس سے ہٹا دیں تاکہ بچہ ان پر چڑھ کر نہ پہنچے۔
  • بالکونی یا سیڑھی کے جنگلے میں ساڑھے چھ سینٹی میٹر سے بڑا خلا ہو تو اسے بند کریں۔ یہی اصول چھت کے کھلے کناروں پر بھی سوچیں۔
  • سیڑھی کے اوپر اور نیچے گیٹ لگائیں اور کم از کم دو سال کی عمر تک رکھیں۔
  • بچے کو بستر یا صوفے پر اکیلا نہ چھوڑیں، ڈائپر فرش پر بدلیں۔

مچھر والی جالی بچے کا وزن روکنے کے لیے نہیں بنی، اس پر بھروسہ نہ کریں۔

کھڑکی کی جالی بچے کو نہیں روکتی0:43ویڈیو کا صفحہ

نہانے کا وقت اور پانی کے برتن

این ایچ ایس کے مطابق بچہ صرف پانچ سینٹی میٹر پانی میں بھی ڈوب سکتا ہے، اور اکثر یہ بالکل خاموشی سے ہوتا ہے۔ کوئی چیخ یا شور نہیں ہوتا۔

  • نہاتے وقت پورا وقت بچے کے ساتھ رہیں، چاہے بڑا بہن بھائی پاس موجود ہو۔
  • نہانے کی نشست حفاظتی آلہ نہیں ہے، اس کے سہارے بچے کو نہ چھوڑیں۔
  • نہلانے کے فوراً بعد ٹب خالی کر دیں۔
  • این ایچ ایس کھلے پانی کو ڈھانپنے یا خالی کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ہمارے گھروں میں اس کا مطلب ہے پانی سے بھری بالٹیاں اور ٹب خالی رکھیں، اور زمینی ٹینک یا حوض کا ڈھکن ہمیشہ بند اور مضبوط ہو۔
نہلاتے وقت بچہ اکیلا نہیں0:45ویڈیو کا صفحہ

زہر، بٹن بیٹری اور چھوٹی چیزوں سے کیسے بچائیں؟

دوائیں، صفائی کی چیزیں اور کپڑوں کی پوڈ

این ایچ ایس کے مطابق پانچ سال سے کم بچوں میں زہر کی وجہ سے اسپتال داخلے کی سب سے عام وجہ دوائیں ہیں، خاص طور پر عام درد کی گولیاں۔

  • دوائیں تالے میں یا اونچی جگہ رکھیں جہاں بچے کی نظر بھی نہ پڑے۔
  • ٹوائلٹ کلینر سمیت صفائی کی ہر چیز اونچی جگہ رکھیں۔ ایسا ممکن نہ ہو تو نیچی الماری پر حفاظتی کنڈی لگائیں۔
  • ہر بوتل کا ڈھکن کس کر بند رکھیں۔
  • کپڑے اور برتن دھونے کی رنگین پوڈ یا گولیاں ٹافی جیسی لگتی ہیں۔ یہ زہریلی ہیں اور منہ یا آنکھ میں جانے پر کیمیکل سے جلن کر سکتی ہیں۔ انہیں بھی نظر اور پہنچ سے دور رکھیں۔
کپڑوں کی پوڈ، ٹافی نہیں0:42ویڈیو کا صفحہ

بٹن بیٹری، مقناطیس اور چھوٹی چیزیں

گھڑی، ریموٹ، کھلونوں اور روشنی والی چیزوں میں لگی چھوٹی گول بٹن بیٹری سکے جیسی لگتی ہے۔ بچوں کے حادثات کی روک تھام کے برطانوی ادارے کے مطابق نگلی ہوئی بیٹری چند گھنٹوں میں کھانے کی نالی کو اندر سے جلا سکتی ہے اور جان لے سکتی ہے۔

  • گھر میں دیکھیں کہ کس کس چیز میں بٹن بیٹری ہے، اور جس چیز کا بیٹری والا ڈھکن ڈھیلا ہو یا بیٹری باہر گر گئی ہو اسے بچے سے دور رکھیں۔
  • فالتو اور استعمال شدہ بیٹریاں اونچی جگہ رکھیں اور جلد ٹھکانے لگائیں۔
  • اگر شک ہو کہ بچے نے بیٹری نگلی ہے تو علامتوں کا انتظار نہ کریں۔ بچے کو کچھ کھانے پینے کو نہ دیں، قے نہ کروائیں، اور فوراً ایمرجنسی جائیں۔
بٹن بیٹری نگلنے کا شک؟0:44ویڈیو کا صفحہ

این ایچ ایس کے مطابق چھوٹے مقناطیس والے کھلونے بھی خطرناک ہیں، کیونکہ ایک سے زیادہ مقناطیس نگلے جائیں تو آنتوں کے اندر ایک دوسرے سے چپک کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے کھلونے بڑے بچوں کے لیے ہیں، چھوٹے بچوں سے دور رکھیں۔

چھوٹے مقناطیس، بڑا خطرہ0:44ویڈیو کا صفحہ

گلا گھٹنے کی سب سے عام وجہ کھانا ہے۔ سخت ٹافیاں اور ثابت میوے چھوٹے بچے کو نہ دیں، اور سکے اور چھوٹے پرزے پہنچ سے دور رکھیں۔

گاڑی اور موٹر سائیکل پر بچے کی حفاظت

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بچوں کی درست نشست استعمال کرنے سے شیر خوار بچوں کی اموات میں 71 فیصد کمی آ سکتی ہے، اور سیٹ بیلٹ گاڑی میں بیٹھے لوگوں کی موت کا خطرہ آدھا تک کم کر سکتی ہے۔ یعنی گاڑی میں بچے کی اصل حفاظت درست نشست سے ہے، گود سے نہیں۔

  • بچے کی نشست اس کی عمر اور سائز کے مطابق ہو اور نشست کی ہدایات کے مطابق لگائی جائے۔
  • پٹیاں ڈھیلی یا مڑی ہوئی نہ ہوں۔
  • باقی سب سواریاں بھی بیلٹ باندھیں۔
بچے کی نشست اُس کے قد اور وزن کے مطابق0:49ویڈیو کا صفحہ

موٹر سائیکل پر پورا خاندان بیٹھنا ہمارے ہاں عام ہے، مگر یہ محفوظ نہیں۔ بچے کو گود میں، ٹینکی پر یا چلانے والے کے آگے بٹھانا خاص طور پر خطرناک ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق درست پہنا ہوا ہیلمٹ دماغی چوٹ کا خطرہ 74 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ ہیلمٹ سر پر سیدھا ہو اور ٹھوڑی کی پٹی بند ہو، ورنہ وہ حادثے میں اتر جاتا ہے۔

ہیلمٹ کی پٹی ٹھیک سے بند ہے؟0:44ویڈیو کا صفحہ

بچے کو کھڑی گاڑی میں کبھی اکیلا نہ چھوڑیں، ایک منٹ کے لیے بھی نہیں۔ امریکی ماہرینِ اطفال کی اکیڈمی کے مطابق گاڑی دس منٹ میں بہت گرم ہو جاتی ہے، بچے کا جسم بڑوں سے کئی گنا تیزی سے گرم ہوتا ہے، اور کھڑکی تھوڑی سی کھولنا یا سائے میں کھڑا کرنا کافی نہیں۔ گاڑی لاک کرنے سے پہلے پچھلی نشست ضرور دیکھیں۔

بچے کو گاڑی میں اکیلا نہ چھوڑیں0:45ویڈیو کا صفحہ

بچے کی محفوظ نیند اور گھر میں آگ سے حفاظت

این ایچ ایس کے مطابق ایک سال سے کم عمر بچے کو ہر بار سلاتے وقت:

  • پیٹھ کے بل لٹائیں۔
  • مضبوط اور ہموار گدا ہو، اس پر تکیہ، موٹی رضائی، ڈھیلا کمبل یا نرم کھلونے نہ ہوں۔
  • پہلے چھ ماہ بچہ آپ کے کمرے میں اپنے الگ جھولے یا پنگھوڑے میں سوئے۔
  • بچے کو گود میں لے کر صوفے یا آرام کرسی پر کبھی نہ سوئیں۔
  • اگر آپ یا آپ کے شریکِ حیات سگریٹ پیتے ہیں، کوئی نشہ آور چیز یا نیند والی دوا لی ہے، بہت زیادہ تھکے ہوئے ہیں، یا بچہ وقت سے پہلے یا ڈھائی کلو سے کم وزن کا پیدا ہوا ہے، تو اسے اپنے بستر میں نہ سلائیں۔
  • زیادہ کپڑے اور ہیٹر کے پاس سلانے سے بچے کو زیادہ گرمی لگ سکتی ہے۔
بچے کی محفوظ نیند0:43ویڈیو کا صفحہ

آگ کے بارے میں این ایچ ایس کہتا ہے کہ دھواں چند منٹ میں بچے کی جان لے سکتا ہے۔ گھر کی ہر منزل پر دھوئیں کا الارم لگائیں، ہر مہینے ٹیسٹ کریں، ایک ساکٹ پر حد سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں، اور گھر والوں کے ساتھ باہر نکلنے کا راستہ پہلے سے طے کر کے مشق کریں۔

دھوئیں کا الارم جانچیں0:47ویڈیو کا صفحہ

حادثہ ہو جائے تو پہلے کیا کریں؟

جلنے پر

  • جلے حصے کو فوراً ٹھنڈے بہتے پانی کے نیچے رکھیں۔ این ایچ ایس بیس منٹ تک ٹھنڈا کرنے کا کہتا ہے۔
  • پاس کے کپڑے اور زیور اتار دیں، مگر جو کپڑا جلد سے چپک گیا ہو اسے نہ کھینچیں۔
  • ٹھنڈا کرنے کے بعد کلنگ فلم یا صاف کپڑے سے ڈھیلا ڈھانپیں، کس کر نہ لپیٹیں۔
  • چھالے نہ پھوڑیں۔
  • عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ٹھنڈا کرتے وقت بچے کو کپکپی نہ لگے، باقی جسم گرم رکھیں۔
جلنے پر ٹوتھ پیسٹ لگانا سب سے بڑی غلطی ہے0:31ویڈیو کا صفحہ

گلے میں کچھ پھنس جائے

  • اگر بچہ زور سے کھانس رہا ہے تو اسے کھانسنے دیں اور پاس رہیں۔
  • منہ میں انگلی ڈال کر اندازے سے چیز نہ نکالیں، وہ اور اندر جا سکتی ہے۔ صرف صاف نظر آنے والی چیز نکالیں۔
  • کھانسی بے آواز ہو جائے یا سانس نہ آئے تو مدد کے لیے آواز دیں۔ ایک سال سے چھوٹے بچے کو ران یا بازو پر الٹا لٹا کر، سر کو سہارا دے کر، کندھوں کے بیچ پانچ تک زور دار تھپکیاں دیں۔ ایک سال سے بڑے بچے کو آگے جھکا کر یہی کریں۔
  • چیز نہ نکلے تو چھوٹے بچے کو سینے پر اور بڑے بچے کو پیٹ کے اوپری حصے پر دباؤ دینے کا طریقہ ہے، جو ویڈیو اور تربیت سے سیکھنا بہتر ہے۔ ساتھ ہی ایمبولینس بلائیں۔
بچے کے گلے میں چیز پھنس جائے تو یہ کریں0:31ویڈیو کا صفحہ

عام غلط فہمیاں اور گھریلو ٹوٹکے

  • جلنے پر ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، گھی، تیل یا برف: عالمی ادارۂ صحت واضح کہتا ہے کہ پیسٹ، تیل، ہلدی، روئی یا برف نہ لگائیں، اور این ایچ ایس کریم، تیل اور مکھن سے منع کرتا ہے۔ صرف ٹھنڈا بہتا پانی۔
  • بڑا بھائی یا بہن نہلاتے وقت پاس ہے تو کافی ہے: نہیں، بڑوں کو پورا وقت ساتھ رہنا ہے۔
  • بچہ ابھی سیڑھی نہیں چڑھتا: این ایچ ایس کہتا ہے کہ بچہ جیسے ہی رینگنا شروع کرے، سیڑھی کا گیٹ لگا دیں۔
  • گاڑی میں گود سب سے محفوظ ہے: عالمی ادارۂ صحت کے مطابق حفاظت درست نشست سے ملتی ہے، جو شیر خوار بچوں کی اموات نمایاں کم کرتی ہے۔

فوراً اسپتال کب جائیں؟

ان میں سے کوئی بات ہو تو فوراً اسپتال یا ایمرجنسی جائیں:

  • جلنا بڑا یا گہرا ہو، جلد سفید یا جھلسی ہوئی دکھے، یا چہرے، گردن، ہاتھ، پاؤں، کسی جوڑ، شرم گاہ یا کولہوں پر ہو۔ کیمیکل یا بجلی سے جلنا، یا دھواں سانس میں جانا بھی ایمرجنسی ہے۔ دس سال سے چھوٹے بچے کا جلنا چھوٹا لگے تب بھی ڈاکٹر کو دکھائیں۔
  • جلنا بجلی، تیزاب یا کسی کیمیکل سے ہو۔ بجلی کے حادثے میں پہلے خود بجلی بند کریں۔
  • بٹن بیٹری، ایک سے زیادہ مقناطیس، یا مقناطیس کے ساتھ کوئی دھاتی چیز نگلنے کا ذرا سا بھی شک ہو، چاہے تعداد معلوم نہ ہو۔
  • بچے کے دوا یا صفائی کی چیز نگلنے، کپڑوں کی پوڈ چبانے، یا اس کا مواد منہ یا آنکھ میں جانے کا شک ہو۔ قے نہ کروائیں اور کچھ کھانے پینے کو نہ دیں۔ آنکھ میں گیا ہو تو بہتے پانی سے دھوتے رہیں۔ بوتل یا ڈبا ساتھ لے جائیں۔
  • گلے میں پھنسی چیز تھپکیوں سے نہ نکلے۔ چیز نکل جائے تب بھی ڈاکٹر کو دکھائیں۔
  • بچہ بے ہوش ہو جائے تو فوراً ایمبولینس بلائیں، اور سی پی آر آتا ہو تو شروع کریں۔ منہ میں صرف وہی چیز نکالیں جو صاف نظر آئے، انگلی سے اندھا دھند نہ ٹٹولیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا نہانے کی سیٹ میں بچے کو چند لمحے اکیلا چھوڑ سکتے ہیں؟

نہیں۔ نہانے کی نشست حفاظتی آلہ نہیں، بچہ اس میں سے پھسل سکتا ہے۔ دروازے یا فون کے لیے جانا ہو تو بچے کو ساتھ اٹھا لیں۔

بیٹری نگلنے کے بعد بچہ ٹھیک لگ رہا ہے، کیا انتظار کر سکتے ہیں؟

نہیں۔ بٹن بیٹری چند گھنٹوں میں اندرونی نقصان کر سکتی ہے۔ شک ہوتے ہی سیدھا ایمرجنسی جائیں یا ایمبولینس بلائیں۔

بجلی سے جلنے پر پہلے کیا کریں؟

بچے کو چھونے سے پہلے بجلی بند کریں تاکہ آپ خود محفوظ رہیں۔ این ایچ ایس کے مطابق بجلی سے جلنے پر بچے کو فوراً اسپتال لے جائیں۔

بچے کو کس عمر تک اپنے کمرے میں سلانا چاہیے؟

این ایچ ایس کے مطابق کم از کم پہلے چھ ماہ بچہ ہر نیند آپ کے کمرے میں، مگر اپنے الگ جھولے یا پنگھوڑے میں، پیٹھ کے بل سوئے۔

یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے، ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ ہنگامی صورت میں فوراً قریبی ہسپتال جائیں۔