گولی کچلنے سے پہلے پوچھ لیں
گولی کچلنے یا کیپسول کھولنے سے پہلے کیا جاننا ضروری ہے، کون سی گولیاں ثابت نگلنی ہوتی ہیں، اور گولی نگلنے میں مشکل ہو تو کیا کریں۔
یہ عام معلومات ہیں، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔
تحریری رہنما
ہمارے گھروں میں یہ عام ہے کہ دادی، نانی یا کسی بچے کو بڑی گولی نگلنے میں مشکل ہو تو اسے چمچ میں پیس کر پانی یا دہی میں ملا دیا جاتا ہے۔ نیت اچھی ہوتی ہے، مگر ہر گولی اس طرح بنائی ہی نہیں جاتی۔ کچھ گولیوں کو کچلنے سے دوا کام کرنا چھوڑ سکتی ہے، اور کچھ میں ایک ساتھ بہت زیادہ دوا جسم میں چلی جاتی ہے۔ اس لیے پیسنے سے پہلے پوچھ لینا ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔
کچھ گولیاں کیوں نہیں کچلنی چاہییں
آہستہ آہستہ دوا چھوڑنے والی گولیاں
کچھ گولیاں اس طرح بنی ہوتی ہیں کہ دوا کئی گھنٹوں میں تھوڑی تھوڑی کر کے نکلے۔ انہیں slow release یا modified release گولیاں کہتے ہیں۔ ایسی گولی کچل دی جائے تو اس کی یہ خوبی ختم ہو جاتی ہے اور ساری دوا ایک ساتھ نکل آتی ہے۔ اس سے خون میں دوا کی مقدار اچانک بڑھ سکتی ہے اور نقصان دہ اثرات کا خطرہ ہوتا ہے۔ کچھ تیز دواؤں میں یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
معدے کے تیزاب سے بچانے والی تہہ
کچھ گولیوں پر ایک خاص تہہ (کوٹنگ) چڑھی ہوتی ہے جسے enteric coated یا gastro resistant کہتے ہیں۔ یہ تہہ دوا کو معدے میں گھلنے سے روکتی ہے، اکثر اس لیے کہ معدے کا تیزاب دوا کو خراب نہ کرے، اور کبھی اس لیے کہ دوا معدے کو تکلیف نہ دے۔ گولی ٹوٹ جائے یا پیس دی جائے تو یہ حفاظت ختم ہو جاتی ہے اور دوا شاید کام نہ کرے۔ ایسی گولیوں کو چبانا یا کچلنا نہیں چاہیے۔
کیپسول
کیپسول کو خود سے کھول کر اس کا پاؤڈر نہ نکالیں۔ نرم کیپسول، جن کے اندر مائع ہوتا ہے، عام طور پر کھولنے کے قابل نہیں ہوتے۔ کچھ کیپسول فارماسسٹ کے مشورے سے کھولے جا سکتے ہیں، مگر ان کے اندر کے دانے بھی چبانے یا پیسنے نہیں ہوتے۔
گولی نگلنا مشکل ہو تو کیا کریں
- ڈبہ اور اندر والا پرچہ (لیفلیٹ) پڑھیں۔ دوا لینے کا طریقہ اکثر وہیں لکھا ہوتا ہے۔
- فارماسسٹ کو ڈبہ اور پرچہ دکھائیں۔ ایک ہی دوا کی مختلف کمپنیوں کی گولیوں کی ہدایات بھی الگ ہو سکتی ہیں، اس لیے اپنی والی گولی دکھائیں۔
- دوسری شکل کے بارے میں پوچھیں۔ بہت سی دواؤں کا شربت، پانی میں گھلنے والی گولی یا کوئی اور شکل مل جاتی ہے۔ فارماسسٹ یا ڈاکٹر بتا سکتے ہیں کہ آپ کی دوا کے لیے کیا ممکن ہے۔
- گولی توڑنا، پیسنا یا کیپسول کھولنا صرف مشورے کے بعد کریں۔
- کھانے میں ملانا بھی پوچھ کر کریں۔ زیادہ تر دوائیں ایک چمچ نرم کھانے کے ساتھ دی جا سکتی ہیں، مگر کچھ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مریض کو بتائے بغیر کھانے میں دوا چھپانا ٹھیک نہیں۔
نگلنے کو آسان بنانے کے طریقے
- گولی پانی کے ساتھ لیں۔ نگلتے وقت سر کو ہلکا سا آگے کی طرف جھکائیں اور سر کو بہت زیادہ پیچھے نہ پھینکیں۔
- چھوٹی ٹافی یا روٹی کے چھوٹے ٹکڑے نگلنے کی مشق کریں، پھر آہستہ آہستہ بڑے ٹکڑوں پر جائیں۔
- اگر کھانا اور پانی نگلنے میں بھی مشکل ہو تو یہ طریقے خود نہ آزمائیں کیونکہ گلے میں پھنسنے کا خطرہ ہے۔ اس صورت میں ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے ملیں۔
عام غلطیاں
- یہ سمجھنا کہ ہر گولی پیسی جا سکتی ہے۔
- slow release گولی کو اپنی طرف سے آدھا کر کے یا پیس کر دینا تاکہ بزرگ آسانی سے لے لیں۔
- فارماسسٹ سے پوچھے بغیر کیپسول کھول کر اس کا پاؤڈر چائے یا دودھ میں ڈال دینا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیسے پتا چلے کہ گولی کچلی جا سکتی ہے یا نہیں؟
ڈبے اور پرچے پر دیکھیں کہ کہیں slow release، modified release، enteric coated یا gastro resistant تو نہیں لکھا۔ پھر بھی یقین نہ ہو تو فارماسسٹ سے پوچھیں، خود اندازہ نہ لگائیں۔
غلطی سے slow release گولی پیس کر دے دی، اب کیا کریں؟
فوراً ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے رابطہ کریں اور بتائیں کہ کون سی دوا اور کتنی دی گئی ہے۔ اگلی خوراک ان کے مشورے کے بغیر نہ دیں۔
کیا شربت ہمیشہ گولی جیسا ہی ہوتا ہے؟
شربت اکثر اچھا متبادل ہے، مگر ہر دوا کا شربت نہیں ملتا۔ کچھ شربت فریج میں رکھنے ہوتے ہیں اور کچھ جلدی خراب ہو جاتے ہیں، اس لیے رکھنے اور دینے کا طریقہ فارماسسٹ سے پوچھ لیں۔
یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے۔ علاج، دوا یا خوراک میں تبدیلی کے لیے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔







