گھر میں حفاظت اور ابتدائی امداد

بزرگوں کے لیے گھر محفوظ بنائیں

· 0:47

بزرگوں کو گھر میں گرنے سے بچانے کے آسان طریقے: راستہ صاف، غسل خانہ اور سیڑھیاں محفوظ، رات کی روشنی، دوائیں، ورزش، اور گرنے کے بعد کیا کریں۔

مکمل تحریری رہنما پڑھیں

یہ عام معلومات ہیں، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔

تحریری رہنما

ہمارے گھروں میں دادا دادی اور نانا نانی اکثر ساتھ رہتے ہیں، اور ان کا ایک بار گرنا کولہے کی ہڈی ٹوٹنے یا سر کی چوٹ تک جا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گرنے سے سب سے زیادہ اموات ساٹھ سال سے بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہیں۔ زیادہ تر خطرے گھر کے اندر چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے کم ہو سکتے ہیں۔

بزرگ زیادہ کیوں گرتے ہیں؟

عمر کے ساتھ پٹھے کمزور ہوتے ہیں، توازن اور نظر کم ہو جاتی ہے۔ کچھ دوائیں چکر یا غنودگی لاتی ہیں۔ جب ایسا جسم ایسے گھر میں چلے جہاں فرش پر چیزیں پڑی ہوں یا اندھیرا ہو، تو گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گھر کو کمرہ بہ کمرہ محفوظ بنائیں

فرش اور راستے

  • تار، جوتے، چپلیں، کھلونے اور اخبار راستے سے ہٹا دیں۔ بجلی کی تاریں دیوار کے ساتھ لپیٹ کر یا ٹیپ سے لگا دیں۔
  • ڈھیلے قالین اور دریاں ہٹا دیں، یا ان کے نیچے دو طرفہ ٹیپ یا نہ پھسلنے والی تہہ لگائیں۔
  • فرنیچر ایسے رکھیں کہ چلنے کا راستہ سیدھا اور کھلا رہے۔

غسل خانہ

  • نہانے کی جگہ کے فرش پر نہ پھسلنے والی ربڑ کی چٹائی یا پٹیاں لگائیں۔
  • نہانے کی جگہ اور ٹوائلٹ کے ساتھ پکڑنے کے لیے ہینڈل (گریب بار) لگوائیں تاکہ اٹھتے بیٹھتے سہارا ملے۔

سیڑھیاں

  • سیڑھیوں پر کوئی چیز نہ رکھیں، اور ٹوٹی یا اونچی نیچی سیڑھی ٹھیک کروائیں۔
  • اوپر اور نیچے دونوں جگہ بتی اور سوئچ ہو۔ فیوز بلب فوراً بدلیں۔
  • ریلنگ دونوں طرف ہو، مضبوط ہو اور پوری سیڑھی کے ساتھ چلے۔

سونے کا کمرہ اور رات کی روشنی

  • بستر کے پاس ایسا لیمپ یا سوئچ ہو جو لیٹے لیٹے ہاتھ آ جائے۔
  • بستر سے غسل خانے تک کے راستے میں نائٹ لائٹ لگائیں۔ کچھ نائٹ لائٹس اندھیرا ہوتے ہی خود جل جاتی ہیں۔
  • پورے گھر میں روشنی اچھی رکھیں، مدھم بلب کی جگہ تیز بلب لگائیں۔

باورچی خانہ

  • روزمرہ کی چیزیں نیچے کی الماری میں کمر کی اونچائی پر رکھیں۔
  • اونچی جگہ پہنچنے کے لیے کرسی پر کبھی نہ چڑھیں۔

جسم کا خیال

  1. جوتے: ایسے جوتے یا چپل پہنیں جو پاؤں میں پوری آئیں، پاؤں سے نہ نکلیں اور تلا نہ پھسلے۔ گھسی ہوئی چپل خطرناک ہے۔
  2. نظر: سال میں کم از کم ایک بار آنکھیں چیک کروائیں اور عینک کا نمبر تازہ رکھیں۔ کان کا معائنہ بھی کروائیں کیونکہ کان کا مسئلہ توازن بگاڑ سکتا ہے۔
  3. دوائیں: ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے تمام دوائیں، بشمول بغیر نسخے والی، ایک بار چیک کروائیں کہ کوئی چکر یا نیند تو نہیں لاتی۔ دوا خود سے بند نہ کریں۔
  4. ورزش: روزانہ کچھ چلنا پھرنا، اور ہفتے میں کم از کم دو بار ٹانگوں کی طاقت اور توازن کی ورزش۔ تائی چی جیسی ہلکی ورزشیں بھی مفید بتائی گئی ہیں۔
  5. ہڈیاں: ڈاکٹر سے ہڈیوں کی کمزوری کے ٹیسٹ اور وٹامن ڈی کے بارے میں پوچھیں۔

اگر کوئی بزرگ گر جائیں

  • گھبرائیں نہیں، اور انہیں فوراً کھینچ کر کھڑا نہ کریں۔ پہلے دیکھیں کہیں چوٹ تو نہیں۔
  • اگر چوٹ نہ ہو تو آہستہ سے کروٹ لیں، پھر ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل آئیں، کسی مضبوط کرسی کا سہارا لے کر آہستہ اٹھیں اور بیٹھ کر آرام کریں۔
  • اگر واضح چوٹ نہیں مگر اٹھ نہ سکیں تو کمبل یا چادر سے گرم رکھیں، مدد بلائیں، اور وہ آرام سے ہاتھ پاؤں ہلکا ہلکا ہلاتے رہیں۔
  • اگر سر، گردن، کمر یا کولہے پر چوٹ، شدید درد یا سن پن کا شبہ ہو تو انہیں بالکل نہ ہلائیں، گرم رکھیں اور فوراً ایمبولینس بلائیں۔ اکیلے رہنے والے بزرگ کے پاس ہر وقت فون ہونا چاہیے۔

فوری مدد کب لیں

  • سر، کمر، گردن یا کولہے پر چوٹ کا شبہ ہو۔
  • بزرگ خود اٹھ نہ سکیں۔
  • درد، الجھن یا طبیعت خراب لگے۔

ان حالات میں فوراً ایمبولینس یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ اگر چوٹ نہ بھی لگی ہو، تب بھی گرنے کے بعد یا توازن کی فکر ہو تو ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا گرنا بڑھاپے کا لازمی حصہ ہے؟

نہیں۔ گھر کی تبدیلیوں، ورزش، نظر کے معائنے اور دواؤں کی جانچ سے خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

کیا بزرگوں کو زیادہ آرام کروانا بہتر ہے؟

بالکل بٹھائے رکھنا ٹھیک نہیں۔ کم چلنے پھرنے سے پٹھے اور توازن کمزور ہوتے ہیں، اس لیے محفوظ طریقے سے روز چلنا پھرنا ضروری ہے۔

ایک بار گرنے کے بعد ڈر لگتا ہے، کیا کریں؟

ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ گرنے کی وجہ معلوم ہو، اور گھر کو اوپر دیے گئے طریقوں سے محفوظ بنائیں۔

یہ رہنما عام معلومات کے لیے ہے۔ علاج، دوا یا خوراک میں تبدیلی کے لیے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔